میں نے جب آنکھ کھولی تو گھر کے اک بڑے حصے کو کتابوں کی الماریوں سے بھرا ہوا دیکھا ،میرے والد ماجد (مفتی شفیع رحمۃ اللہ علیہ ) کتابوں کو اپنی سب سے بڑی پونجی سمجھتے تھے ،قلیل آمدنی کے باجود اس کا اچھا خاصا حصہ کتابوں پر صرف فرماتے ،اور جب ہندوستان سے پاکستان ہجرت کی تو اپنا گھر بار وغیرہ سب چھوڑ کر آئے لیکن کتابوں کا جتنا ذخیرہ ساتھ لا سکتے تھے وہ لائے اور جو نہ آسکا اسے منگوانے کیلئے ہر طرح کی کوششیں فرمائیں یہاں تک کہ وہ ساراذخیرہ پاکستان منتقل ہو گیا ، حضرت والد صاحب کے مکان میں علمی اور دینی کتابوں کا اتنا ذخیرہ جمع ہو گیا کہ حضرت شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی بعض اوقات کسی کسی مسئلے کی تحقیق اور کتابوں سے رجوع کرنے کیلئے حضرت والد صاحب کے پاس آیا کرتے تھے اپنے چاروں طرف کتابیں تو نظر آتی تھیں اور حضرت والد ماجد کا ان کے ساتھ شغف بھی روزانہ دیکھتا تھا ،اس کی بناء پر کتابوں سے انجانی سی محبت بھی معلوم ہوتی تھی اور ان میں سے کئی کتابوں کے نام بار بار دیکھنے سے یاد بھی ہو گئے تھے ،لیکن ان کے مضامین کی معرفت اور ان سے استفادہ اپنی پہنچ سے باہر تھا ،یہاں تک کہ جب میں نے اپنی عمر کے دسویں سال میں عربی پڑھنے کا آغاز کیا تو اساتذہ بھی ایسے ملے جو کتابوں کے دلدادہ تھے خاص طور پر حضرت مولنا مفتی ولی حسن رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی وسعت مطالعہ ہر درس سے چھلکتی تھی ،انہوں نے رفتہ رفتہ کتب بینی کا شوق پیدا کیا اور کبھی کبھی کسی کتاب کی طرف رہنمائی فرما کر اس کے مطالعے کا حکم دیتے ،شروع میں یہ مطالعہ سیرت طیبہ اور صحابہ کرام کے حالات تک محدود تھا ۔پھر جوں جوں درس نظامی کی تعلم آگے بڑھتی گئی رفتہ رفتہ دوسری علمی کتابوں کو دیکھنے کا شوق پیدا ہو ۔ حضرت مفتی ولی حسن رحمہ اللہ کے پاس حضرت مولنا عبدالرشید نعمانی بکثرت تشریف لاتے رہتے تھے ،جب دونوں جمع ہوتے تو ان دونوں کا موضوع گفتگو زیادہ تر مختلف کتابوں کا ان کے مولفین کا تذکرہ ہوتا تھا ۔اس سے رفتہ رفتہ یہ جستجو پیدا ہوئی کہ حضرت والد ماجد کی کتابوں کا جو ذخیرہ رکھا ہوا ہے اس سے رہ رسم پیدا کی جائے
چنانچہ جب میں چودہ پندرہ سال کی عمر میں تھا ،اس وقت میرا محبوب مشغلہ یہ ہوگیا کہ چھٹی کے دنوں میں نے حضرت والد صاحب کی کتابوں کو الٹ پلٹ کر دیکھنا شروع کیا اور جس ترتیب سے الماری میں کتابیں رکھی ہوتی اسی ترتیب سے کتابوں کو کھولتا اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتا کہ کتاب کو مصنف کون ہے ،کس موضوع پر لکھی گئی ہے ،اور اس کی فہرست مضامین پر نظر ڈالتا اور فہرست مضامین میں سے جو موضوع دلچسپ نظر آتا اس کو اپنی بساط کے مطابق پڑھنے کی بھی کوشش کرتا ،یہاں تک کہ گھر کے کتب خانے کی ساری کتابوں کے بارے میں بنیادی معلومات ہو گئیں
پھر یہی کام میں نے دارلعلوم کے کتب خانے کے ساتھ بھی کیا ۔اس کا فائدہ یہ ہوا کہ آئندہ جب کسی مسئلے کی معلومات حاصل کرنے کی ضرورت پیش آتی تو خود سے یاد آجاتا کہ یہ مسئلہ کس کتاب میں دیکھنا چاھئے
بچپن میں ہی اپنے گھر کے ماحول اور اساتذہ کی تعلیم وتربیت کے نتیجے میں مجھے شعر وادب سے خصوصی مناسب پیدا ہوگئی تھی ،حضرت والد صاحب کے پاس ملک اور بیرون ملک سے بہت سے رسائل وجرائد آیا کرتے تھے تقریبا وہ سب اپنی دلچسپی کی حد تک نظر سے گزرتے تھے
چنانچہ جب میں چودہ پندرہ سال کی عمر میں تھا ،اس وقت میرا محبوب مشغلہ یہ ہوگیا کہ چھٹی کے دنوں میں نے حضرت والد صاحب کی کتابوں کو الٹ پلٹ کر دیکھنا شروع کیا اور جس ترتیب سے الماری میں کتابیں رکھی ہوتی اسی ترتیب سے کتابوں کو کھولتا اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتا کہ کتاب کو مصنف کون ہے ،کس موضوع پر لکھی گئی ہے ،اور اس کی فہرست مضامین پر نظر ڈالتا اور فہرست مضامین میں سے جو موضوع دلچسپ نظر آتا اس کو اپنی بساط کے مطابق پڑھنے کی بھی کوشش کرتا ،یہاں تک کہ گھر کے کتب خانے کی ساری کتابوں کے بارے میں بنیادی معلومات ہو گئیں
پھر یہی کام میں نے دارلعلوم کے کتب خانے کے ساتھ بھی کیا ۔اس کا فائدہ یہ ہوا کہ آئندہ جب کسی مسئلے کی معلومات حاصل کرنے کی ضرورت پیش آتی تو خود سے یاد آجاتا کہ یہ مسئلہ کس کتاب میں دیکھنا چاھئے
بچپن میں ہی اپنے گھر کے ماحول اور اساتذہ کی تعلیم وتربیت کے نتیجے میں مجھے شعر وادب سے خصوصی مناسب پیدا ہوگئی تھی ،حضرت والد صاحب کے پاس ملک اور بیرون ملک سے بہت سے رسائل وجرائد آیا کرتے تھے تقریبا وہ سب اپنی دلچسپی کی حد تک نظر سے گزرتے تھے
0 comments:
Post a Comment