Thursday, 4 February 2016

مطالعہ کیوں... کیا ... اور کیسے؟؟؟


از: مولوی فاروق اعظم عاجز قاسمی ، متعلّم دارالعلوم دیوبند

ایک شہسوار قلم کے لیے مطالعہ اتنا ضروری ہے جتنا انسانی زندگی کی بقاء کے لیے دانا اور پانی کی ضرورت ہے، مطالعہ کے بغیر قلم کے میدان میں ایک قدم بھی بڑھانا بہت مشکل ہے، علم انسان کا امتیاز ہی نہیں؛ بلکہ اس کی بنیادی ضرورت بھی ہے، جس کی تکمیل کا واحد ذریعہ یہی مطالعہ ہے، ایک پڑھے لکھے شخص کے لیے معاشرہ کی تعمیر و ترقی کا فریضہ بھی اہم ہے؛ اس لیے مطالعہ ہماری سماجی ضرورت بھی ہے۔ اگرانسان اپنے اسکول و مدرسہ کی تعلیم مکمل کرکے اسی پر اکتفا کرکے بیٹھ جائے تو اس کے فکر و نظر کا دائرہ بالکل تنگ ہوکر رہ جائے گا۔ مطالعہ استعداد کی کنجی اور صلاحیتوں کو بیدار کرنے کا بہترین آلہ ہے۔ یہ مطالعہ ہی کا کرشمہ ہے کہ انسان ہر لمحہ اپنی معلومات میں وسعت پیدا کرتا رہتا ہے۔ اور زاویہٴ فکر ونظر کو وسیع سے وسیع تر کرتا رہتا ہے۔
مطالعہ ایک ایسا دوربین ہے جس کے ذریعے انسان دنیا کے گوشہ گوشہ کو دیکھتا رہتا ہے، مطالعہ ایک طیارے کی مانند ہے جس پرسوار ہوکر ایک مطالعہ کرنے والا دنیا کے چپہ چپہ کی سیر کرتا رہتا ہے اور وہاں کی تعلیمی، تہذیبی، سیاسی اور اقتصادی احوال سے واقفیت حاصل کرتا ہے۔ شورش نے کہا: ”کسی مقرر کا بلامطالعہ تقریر کرنا ایسا ہی ہے جیسا بہار کے بغیر بسنت منانا، یالو، میں پتنگ اڑانا“(۱) یہ تو ایک مقرر کے سلسلے میں بات تھی؛ لیکن ٹھیک یہی صورت ایک قلم کار کی بھی ہے۔ مولانا نورعالم خلیل امینی صاحب فرماتے ہیں: ”آج لوگ لکھنے والے زیادہ اور پڑھنے والے کم ہوگئے جس کے نتیجے میں تحریر کی اثر آفرینی ختم ہوگئی؛ اس لیے تحریر کو موثر بنانے کے لیے ضرورت ہے کہ ایک صفحہ کو لکھنے کے لیے سو صفحات کا مطالعہ ہو“(۲) پروفیسر عبدالمغنی کہتے ہیں: ”مطالعہ کی غرض علم کا حصول اور راہ عمل کی تلاش ہے“(۳)
شیشی کے اندراگر مشک ہوتو کھولنے کے بعد خوشبو ضرور پھیلتی ہے اسی طرح جب ایک قلمکار کا مطالعہ وسیع اور گہرا ہوتا ہے تو اس کی تحریر میں قوت اور اثر ہوتا ہے؛ ورنہ تحریر کمزور، پھسپھسی اور بے جان ہوتی ہے۔
عربی کا ایک مشہور محاورہ ہے: ”زمانے کا بہترین دوست کتاب ہے“ اسی کو شورش مرحوم نے اس طرح کہا ہے: ”کتاب سا مخلص دوست کوئی نہیں“۔ اسی طرح ایک مفکر کہتا ہے: ”کتابوں کا مطالعہ انسان کی شخصیت کو ارتقاء کی بلندمنزلوں تک پہنچانے کا اہم ذریعہ، حصول علم ومعلومات کا وسیلہ اور عملی تجربانی سرمایہ کو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرنے اور ذہن وفکر کو روشنی فراہم کرنے کا معروف ذریعہ ہے۔“(۴)
کتابوں سے جہاں معلومات میں اضافہ اور راہ عمل کی جستجو ہوتی ہے وہیں اس کا مطالعہ ذوق میں بالیدگی، طبیعت میں نشاط، نگاہوں میں تیزی اور ذہن ودماغ کو تازگی بھی بخشتا ہے۔
مطالعہ کن کتابوں کا ہو؟
مطالعہ ایسی کتابوں کاہو جو نگاہوں کو بلند، سخن کو دل نواز اور جاں کو پرسوز بنادے، اگر مطالعہ فکر کی سلامت روی، علم میں گیرائی اور عزائم میں پختگی کے ساتھ ساتھ فرحت بخش اور بہار آفریں بھی ہوتو اسے صحیح معنوں میں مطالعہ کہاجائے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ آج کا دور انتہائی ترقی پذیر اور مسابقہ کا دور ہے، ذرائع ابلاغ و ترسیل کی بہتات ہے،اور سہولیات کی بھی کمی نہیں ہے؛ ایسے ہی طرح طرح کے اخبارات و رسائل اور کتابوں کی بھی فراوانیاں ہیں۔ اب ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ کتابوں کی اس ریل پیل اور جنگل میں کن کا مطالعہ کیاجائے اور کن کو چھوڑا جائے؟ اس کا سیدھا سا جواب یہی ہے کہ یہ ممکن نہیں؛ اس لیے کہ نہ ہر کتاب قابل مطالعہ ہے اورنہ ہی تمام کتابوں کے مطالعہ کرنے کی انسانی زندگی میں گنجائش۔ اس لیے انتہائی چھان پھٹک کر کتابوں کا انتخاب ہونا چاہیے۔ یہ بات بھی انتہائی ضروری ہے کہ کتاب ایمان سوز اوراخلاق سوز نہ ہو؛ اس لیے کہ مطالعہ ہی کے غلط رخ نے عبدالماجد کو ارتداد کے گڈھے میں دکھیل دیا تھا؛ لیکن بعد میں اسی شخص کے مطالعہ کی سمت جب درست ہوئی تو عبدالماجد مولانا عبدالماجد ہوگئے اور مفسر قرآن اس شخص کے نام کا جزولاینفک بن گیا؛ صحت مند مواد اور مستند مصنّفین کی کتابوں کے مطالعہ ہی کا کرشمہ کہنا چاہیے کہ امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھی رحمة الله عليه (نومسلم) دس بارہ سال ہی کی عمر میں اسلام کی طرف مائل ہوگئے تھے۔ اسلیے معتبر و مستند مصنّفین ہی کی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ کتابوں کے انتخاب کے سلسلے میں مولانا یعقوب رحمة الله عليه کے حوالہ سے حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمة الله عليه شاہ ولی اللہ رحمة الله عليه کا ایک مقولہ نقل کرتے ہیں: ”جب کسی کتاب کے مطالعہ کا ارادہ کرو تو پہلے اس کے نام کو دیکھو، اگر نام ہی اصل مضمون کے مناسب نہ ہو تو اس کو چھوڑ دو، پھر تمہید کو دیکھو، اگر وہ کتاب کے مضمون کے مناسب نہیں ہے تو چھوڑدو، اس کے مطالعہ میں وقت ضائع نہ کرو، جب نام اور تمہید میں مناسبت دیکھ لو تب آگے بڑھو۔“(۵)
اس سلسلے میں ایسے اساتذہ کی رہنمائی بھی بڑی کارآمد ہوتی ہے جن پر مطالعہ کرنے والے کو مکمل اعتمادہو، رہنما ایسا ہونا چاہیے جو بذات خود ہر اعتبار سے ایک پیاسے کی تشنہ لبی کو دور کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہو۔ مفکراسلام ممتاز عالم دین مولانا علی میاں ندوی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ”مطالعہ وسیع کیجئے! اور اس کے لیے اساتذہ سے، خاص طورپر مربی الاصلاح سے اور ان اساتذہ سے جن سے آپ کا رابطہ ہے، ان سے مشورہ لیجئے“۔(۶) اسی طرح اس پگڈنڈی پر انتہائی سبک روی سے چلنے کی ضرورت ہے۔ مولانا ندوی رحمة الله عليه مزید فرماتے ہیں: ”یہ ایک پل صراط ہے اس پر سبک روی اور بہت احتیاط کے ساتھ چلنے کی ضرورت ہے“۔ (۷) یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر رضى الله تعالى عنه جیسے عظیم شخص کو حضور صلى الله عليه وسلم نے توریت جیسی عظیم المرتبت، آسمانی کتاب کے مطالعہ سے منع فرمادیا تھا۔
مطالعہ کے بنیادی مواد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ڈاکٹر یٰسین مظرصدیقی ندوی کہتے ہیں: ”مطالعہ میں ہدایت نبوی کے مطابق سب سے اچھی چیزیں لے لیں اور بری چیزیں چھوڑدیں، اس میں انصاف سے کام لیں کہ یہی خیر کا دروازہ ہے“۔(۸) ایسے ہی انسانی زندگی کے محدود ہونے کی وجہ سے تمام موضوعات کا احاطہ مشکل ہے؛ البتہ ہر موضوع سے کچھ نہ کچھ واقفیت ضروری ہے۔ چناں چہ نعیم صدیقی صاحب رقم طراز ہیں: ”بنیادی طور پر قرآن و حدیث اور ان سے متعلق علوم پر جس حد تک ممکن ہونگاہ ہونی چاہئے... پھر حضور نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کی سیرت اور صحابہ كرام رضوان الله تعالى عليهم اجمعين کے سیر پر نظر ہونی چاہئے... ضروری ہے مطالعہ کا سفر کرنے والا ہر شخص کم از کم اپنے ملک اوراپنی قوم؛ بلکہ اپنی تہذیب کے ادبیات سے واقف ہو“۔(۹) جس طرح کتابوں کے انتخاب کا مرحلہ بڑا نازک ہے اسی طرح مطالعہ میں ترتیب کی رعایت بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے، اس لیے مطالعہ کے معیار کو بتدریج بڑھایا جائے، ایسا نہ ہو کہ نورانی قاعدہ تو پڑھی نہیں اور قرآن شریف ہی پڑھنا شروع کردیا۔
طریقہٴ کار
مطالعہ ایک خوبصورت گلشن کی مانند ہے، اس میں خوشبو بھی ہے، دل آویزی بھی ہے، اور خاردار شاخیں بھی ہیں۔ ایک طرف جہاں مطالعہ کی اہمیت مسلم اور افادیت قابل ذکر ہے، ساتھ ہی ساتھ اس کے مواد میں انتہائی چاق و چوبندی ناگزیر ہے۔ اسی طرح اس کے طریقہ کار سے بھی واقفیت بہت ہی ضروری ہے؛ اس لیے کہ کسی بھی کام کو اگر اس کے اصول وضابطہ سے کیا جائے تو وہ کارآمد ثابت ہوتا ہے؛ ورنہ نفع تو درکنار نقصان ضرور ہاتھ آتا ہے، فرض کیجئے! آپ کے پاس وقت بھی ہے، کتابیں بھی اچھی ہیں؛ لیکن ذہن پریشان، آنکھوں میں درد اور روشنی بھی مدہم تو آپ مطالعہ نہیں کرسکتے، اگر اسی صورت حال میں مطالعہ کی کوشش کریں گے تو صحت پر اس کا بہت برا اثر پڑے گا۔ اس لیے صحت کا خیال بھی بہت ضروری ہے، بطور خاص آنکھوں کا خیال۔
یہ بھی قابل ذکر بات ہے کہ اس خیال سے مطالعہ کو ہرگز ترک نہیں کرنا چاہئے کہ یاد نہیں رہتا؛ بلکہ مطالعہ ضرور کرے کہیں نہ کہیں اس کافائدہ ضرور ظاہر ہوتا ہے؛ اس لیے کہ مہندی میں سرخی پتھر پر بار بار گھسنے کے بعد ہی آتی ہے۔ مولانا عبدالسلام خاں لکھتے ہیں: ”مطالعہ جتنا زیادہ ہوگا اتنا ہی جلد محفوظ ہوگا اور تیز ہوگا؛ اس لیے کتب بینی کو سست روی یا یاد نہ رہنے کی وجہ سے ترک نہ کرنا چاہئے۔“
حاصل مطالعہ
مطالعہ کے ساتھ ساتھ حاصل مطالعہ کو ذہن نشین کرنے کی تدبیر بھی ضروری ہے۔ علم ومعلومات کی مثال ایک شکار کی سی ہے؛ لہٰذا اسے فوراً قابو میں کرنا چاہیے۔ امام شافعی رضى الله تعالى عنه فرماتے ہیں: ”علم ایک شکار کی مانند ہے کتابت کے ذریعے اسے قید کرلو“۔ اس لیے مطالعہ کے دوران قلم کاپی لے کر خاص خاص باتوں کو نوٹ کرنے کا اہتمام کرنا چاہئے؛ ورنہ بعد میں ایک چیز کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور وہ نہیں ملتی ہے۔ اب یا تو سرے سے بات ہی ذہن سے نکل جاتی ہے یا یادتو رہتی ہے لیکن حوالہ دماغ سے غائب ہوجاتا ہے، ڈاکٹر صمت جاوید کا کہنا ہے کہ : ”یاد رکھنے کے قابل بات ہمیں دوران مطالعہ معلوم کتابوں پر دوران مطالعہ اہم مقامات پر نشان لگانے اور کتاب کی پشت پر سادہ اوراق میں اہم نکات کے خلام ہوا سے کاپی یا کسی کاغذ کے پرزے پر ہی نوٹ کرلیں“۔ اسی طرح ڈاکٹر احمد سجاد کہتے ہیں: ”ذاتی صے اور بعض صفحات کے نمبروں کو لکھنے کی عادت ہنوز قائم ہے“۔ مطالعہ کے معاً بعد بعض کتابوں پر ذاتی تاثرات تبصرے بھی اختاصر کے ساتھ لکھنے کی عادت ہے۔“ حاصل مطالعہ کیسے ذہن نشین ہو یہ بھی ایک اہم عنصر ہے۔ اس سلسلے میں نعیم صدیقی رقم طراز ہیں: ”میری ذہنی ساخت یوں بنی کہ میں حاصل مطالعہ کو دماغ میں ڈال دیتا اور میرے اندراس پر غور و بحث کا ایک سلسلہ چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، کھانا کھاتے جاری رہتا یہاں تک کہاس کا مثبت یا منفی اثر میرے عالم خیال پر رہ جاتا“۔
معلوم ہوا کہ مطالعہ کے بعد حاصل مطالعہ کی بھی بڑی اہمیت ہے؛ ورنہ تو بات لاحاصل ہی رہے گی۔ مطالعہ کے دوران جہاں اچھی کتابوں، خوشگوار فضا، مناسب مقام، موزوں روشنی اور وقت کی تنظیم ضروری ہے وہیں صحت کا بھی خاص خیال رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔
*  *  *
حواشی:
(۱)          فن خطابت، ص:۳۷۔
(۲)         ایک تقریر سے ماخوذ۔
(۳)         ماہنامہ رفیق منزل مطالعہ نمبر۔
(۴)         رفیق منزل مطالعہ نمبر، ص:۱۰۔
(۵)         ذاتی ڈائری، ص:۱۱۔
(۶)          استاذ و شاگرد کے حقوق، ص:۷۸۔
(۷)         پاجاسراغ زندگی،ص:۵۸۔
(۸)         میرا مطالعہ، ص:۲۰۱، بحوالہ رہنمائے مطالعہ۔
(۹)          میرا مطالعہ بحوالہ رہنمائے مطالعہ، میرا مطالعہ ص:۱۶۵۔

Wednesday, 3 February 2016

مطالعہ کی اہمیت

مطالعہ کی اہمیت
موٴلف: مولانا محمد روح اللہ نقشبندی فاضل جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاوٴن کراچی،صفحات :۴۳۰، قیمت :درج نہیں ، پتہ: مکتبہ بیت العلم ۲۹-جی ،گراؤنڈ فلور ،اسٹوڈنٹ بازار،نزد مقدس مسجد ،اردوبازار ،کراچی۔
پیش نظر کتاب سات ابواب پر مشتمل ہے ، کتاب کے ابواب پر ایک طائرانہ نظرڈالنے سے کتاب کے مضامین کا اندازہ لگایاجاسکتا ہے ، مثلاکتاب سے محبت اور اہمیت ، کتب خانوں کا اجمالی تعارف اورذخیرہ کتب پر مختصر معلومات ، طلب علم کے لیے جانی اور مالی قربانیاں اور دور دراز سفر کے عجیب واقعات ، طلب علم کے سفر میں بھوک برداشت کرنے کی عجیب حکایات ، مطالعہ کی اہمیت سلف صالحین کے ذوق مطالعہ کتب کا دل نشین اور بے مثال تذکرہ ، مطالعہ کتب کے آداب مطالعہ کا طریقہ اور مطالعہ کے موضوع پر دلچسپ نکات، اسلاف امت اور ان کے تصنیفی کارنامے ،موٴلف نے مطالعہ اور علم کے موضوع پر مختلف مشہور کتابوں سے مواد یکجا کر کے شائقین کتب کے سامنے پیش کردیا ہے ،کیا ہی اچھا ہوتا اگرکتاب کوحوالہ جات سے مزین کردیاجاتا۔

دو ایسی کتب جس نے آپکی زندگی پر گہرے نقوش مرتب کیئے ہوں ؟


((( پسندیدہ کتب )))
احباب علم ودانش سے گزارش ہے کہ قرآن کریم کے علاوہ دو ایسی کتب کے نام لکھیے جس نے آپ کی زندگی پر گہرے نقوش رقم کیے ہوں.تاکہ تشنگانِ علم کو نفع ہو.
Comments
Jafar Bhatti
دستور حیات .. مولانا سید ابو الحسن علی ندوی
ابوالحسن الطالب
آپ بیتی حضرت مولانا زکریا رحمہ اللہ
بینات بنوری نمبر
Muhammad Sadiq
تذکرہ اولیا(شیخ فریدالدین عطار رح
Sohaib Zia Chaudhry
سوانح قاسمی
نقش دوام( حیات محدث کشمیری)
Saghir Ahmed Umdatul qari....ahyaul uloom
Tufail Qasmi
آب بیتی حضرت شیخ زکریارح متاع وقت اورکاروان علم
شرحبیل احمد
اسوۂ رسولِ اکرم
متاع وقت اور کاروان علم
Muhammad Ishaq Alam
ڈاکٹرمحموداحمدغازی کی تمام محاضرات
اورڈاکٹروھبہ الزحیلی کی الفقہ الاسلامی وادلتہ
Dilawar Khan
راہ سنت، خطبات حکیم الامت
Inam Ur Rahman Mian
ایسی کئی کتابیں ہیں جو مختلف اوقات میں پسند آتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر آغا افتخار حسین کی ''قوموں کی شکست وزوال کے اسباب کا مطالعہ'' مجلس ترقی ادب لاہور کی شائع کردہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ول ڈیو رینٹ کی ''نشاطِ فلسفہ'' مترجم ڈاکٹر محمد اجمل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھی قابلِ مطالعہ ہیں
Adil Rehman 1.
Zia ul Nabi
2.Sunnat e khairul anam
both are written by justice Mohammad karam shah Al.azhari
Gulam Husen tarikh r dawt w azimt. 2 muslim mmalik me islamiyt or mgribiyyat ki ksh mksh
Abdul Basit
نقوش و تاثرات حکیم الامت۔ مولفہ عبد الماجد دریاآبادی صاحب
ملفوظات تھانوی۔(مولانا اشرف علی صاحب تھانوی)
Asim AllahBakhsh
. مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں ...
جو اثر ڈالا قرآن ہی نے ڈالا..... باقی بہت سخت کھال ہے اپنی. smile emoticon
Ans Hassan
یقینا ایسا ہی ہے مگراس کی صراحت پوسٹ میں پہلے ہی کردی گئی ہے.اس کے علاوہ بتا کر مشکورکیجیے.
محمد عطاءالرحمن
Write a reply...
Abdul Rasheed
الکھ نگری.
سبع معلقات
Mehar Abdul Rehman Tariq
بہشتی زیور.... موت کا منظر. .... جوان رھنے کہ ھزار نسخے 
Saqib Ur Rehman
مختارات ابوالحسن ندوی . چاند کا خدا الیاس سیتاپوری. بال جبریل
Muzammil Shaikh Bismil
دو کتابوں کے نام لینا تو بہت مشکل کام ہے.
بہرحال...
تقریرِ دلپذیر. از قاسم نانوتوی.
کریٹک آف پیور ریزن. از کانٹ

نوٹ:
ترتیب ترجیحی بنیاد پر نہیں ہے. دورِ مطالعہ کی بنیاد پر ہے.
Ans Hassan
گویا ترتیب توقیفی نہیں بلکہ نزولی ہے.
محمد عطاءالرحمن
Write a reply...
Sarmad Mansor
باادب با نصیب از شیخ ذوالفقار احمد نقشبندی.
اختلاف امت اور صراط مستقیم
Mufti Rowais Khan Ayyubi siratunnabi ahulhasan ali badvi zindgi afzal haq naqshe hayat madni sahib
Ahqar Ul Ibad Sohanvi
فیوض یزدانی' از پیران پیررح
پاجاسوراغ زندگی از شیخ ندوی رح
See translation
Malik Naveed
پیا رنگ کالا
خلافت و ملوکیت
ابو الدنیا ابن الاخره
شهاب نامه
ملفوظات حکیم الامت
See translation
حکیم خالدمحمود
الفوائد فی علم القلوب وتزکیۃ النفوس والرغبۃ الی علام الغیوب لابی محمد امین اللہ بشاوری حفظہ اللہ
ایک ہی کتاب ہے 2جلدوں میں
Aamir Zulfiqar
علی پور کا ایلی ، از ممتاذ مفت
Mushtaq Ahmad
کلیات اقبال، حیاتِ جاوید
محمد سرور
احب " القارئین" ولست منھم
لعل اللہ یرزقنی "القراءۃ"
میرا مطالعہ ذرا غیر منضبط سا ہوتا ہے،اس لیے صرف دو کتابوں کی قید کچھ گراں محسوس ہورہی ہے،لیکن دو ہی کے نام لکھنے ہیں تو کہہ سکتا ہوں کہ
1۔تذکرہ مولانا آزاد
2۔خطبات ومقالات سید ابو بکر غزنوی
Usman Baig
مطاب القرآن عمدہ السلوک
Anas Aiah Beheshti zewar fazail amal
Syed Shakir Hussain Rizvi
آپ نے دو کتب ہائے مبارکہ کا نام پر فکر کو قید و سلاسل کی نوید سُنائی ہے ۔۔
پھربھی فی الوقت دو کتب کے نام لکھ دیتا ہوں ۔۔۔
١۔۔۔۔۔ شاہکارِ رسالت از غلام احمد پرویز
٢۔۔۔۔۔ ارتقائے حیات از روئے قرآن ۔۔۔ از پروفیسر غفور صاحب ۔۔
Zahid Saleem
سرجی. ارتقاء حیات کے ناشر کون ہیں؟
محمد عطاءالرحمن
Write a reply...
Usman Habib
متاع وقت اور کاروان علم.
تیسری جنگ عظیم اور دجال.
Hafiz Imran Khan Khattak 1.ihata darul uloom m beety huay din
2. Naqshe hayat
Ans Hassan
اب جب اپنی پسندیدہ دو کتب کانام لکھنے لگا ہوں تواحساس ہورہاہےکہ دو کتب کاانتخاب واقعی بہت مشکل ہے.بہرحال میری اب تک کی پسندیدہ دوکتب ہیں.
1 . حجۃاللہ البالغہ
2 . خطبات بہاولپور
Tanveer Majeed
1 تلاش ممتاز مفتی
2عشق کا عین علیم الحق حقی
Abu Nujaam Sukkurvi
پاجا سراغ زندگی شیخ ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ
Samiullah Hamid
اختلاف امت اور صراط مستقیم
اشرف الجواب
Asif Jahan
پیغمبر انقلاب مولانا وحیدالدین. مولانا عبیداللہ سندھی اور ان کے ناقدین از مولانا سعید احمد اکبر آبادی
Amir Zeb Ba adab ba naseeb
molllana zulfaqar naqash bandi
Mahboob Ahmad Ghazi
یادوں کی بارات ۔ ۔ اُس بازار میں ۔۔
Mufti Arhman
اختلاف امت اور صراط مستقیم
غبارِخاطر ابوالکلام آزاد
Abu Saad Iman
زندگی پر گہرے نقوش تو صرف زندہ لوگ ہی ثبت کرتے ہیں اور زندہ لوگوں میں بھی وہ جو یا تو محبت کرتے ہیں یا پھر محبت سے دشمنی کرتے ہیں۔ ہاں کتابیں دل و دماغ پر اثر ڈالتی ہیں اور مجھے یہ کہنے میں خوشی محسوس ہورہی ہے کہ میرے دل و دماغ پر سید ابوالحسن علی ندوی اور ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمہ اللہ کی تحریروں نے گہرے نقوش ثبت کیے۔ لیکن کسی ایک کتاب کا نام پھر بھی میں نہیں لوں گا۔ ہاں! دو ناول ایک (1) لاحاصل از عمیرہ احمد (2) اور دوسرا "بچپن کا دسمبر" از ہاشم ندیم چونکہ انہی دس سالوں میں پڑھے ہیں لہٰذا ان کا لطف ابھی تک دل دماغ پر قائم ہے۔ رہے نام اللہ کا۔
Syed Mateen Ahmad
1- قرآن کا مطلوب انسان، مولانا وحید الدین خان
2- پا جا سراغ زندگی، مولانا ابو الحسن علی ندوی
------------------
یہ دو کتابیں اصلاح وتذکیر کے پہلو سے ہیں۔ مختلف علوم وفنون اور افکار کے اعتبار سے جواب ظاہر ہے مختلف ہوگا۔
Ans Hassan
*** پسندیدہ کتب پرتبصرے کا شکریہ ***

چندروزقبل فیس بک کےاحباب علم ودانش سےگزارش کی تھی کہ اپنی دوپسندیدہ کتب کے نام ارشاد فرمائیں.اس پر بہت سے دوستوں نے کرم فرمائی کی. اگرچہ بہت سےدوست جن کی پسندیدہ کتب سےشایدبہت سوں کا نفع ہوتا انہوں نے اس گزارش کو درخواعتناء نہیں سمجھا.تاہم میں ان سب دوستوں کا شکرگزار ہوں جنہوں نے اپنی پسندیدہ کتب کےنام دیے اور ان کابھی شکریہ اداکرتا ہوں جواپنی کسی "شرعی مجبوری"کے باعث اس مجلس میں شرکت سے محروم رہے. اس عمل کا یہ فائدہ ضرور ہوگا کہ ایک مبتدی اور مصروف شخص کو اپنی ایک مختصر لائبریری ترتیب دینا آسان ہوجائے گا. نیز کم ازکم میں اپنی حدتک تو کہہ سکتاہوں کہ اس فہرست میں چندکتب ایسی بھی نظر آئی ہیں جنہیں پڑھنے کا بھرپور داعیہ پیداہوا ہے.

تاہم یہ بھی عرض کردینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ دوکتب کی قید بہت سخت تھی اور یہ کہ ہرشخص پر ایک ہی کتاب کے مختلف اثرات مرتب ہوسکتے ہیں. نیزہرشعبہ علم وفن کی کتب کا اپناالگ مقام ہوتاہے جس کی رعایت ازحدضروری ہے. اسی طرح کتب کے انتخاب کے حوالے سے مخصوص پس منظراور حالات وادوار کو بھی دخل ہوتاہے. چنانچہ کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک کتاب مخصوص حالات اور وقت میں متاثر کرتی ہے مگرکچھ عرصہ گزرنے پروہی کتاب بڑی بودی معلوم ہوتی ہے.

اس ضمن میں یہ بھی گزارش ہے کہ جوعلمی دوست کوئی نئی کتاب مطالعہ کرےاوراسے اچھی لگے تو چارسطروں میں اس کاتعارف کرانا اپنےفرائض میں شامل کرلے. ویسے بھی اول فول توہم سب لکھتے ہی رہتے ہیں توکبھی کبھارکی اس علمی ایکٹیوٹی میں کیا حرج ہے. یقین جانیے اس سے بہت سوں کا نفع ہوگا.اللہ آپ سب کو خوش رکھے.
Azkia Hashimi
مذہب اور علم جدید کا چیلنج. وحید الدین خان
خطبات بہاولپور. ڈاکٹر حمید اللہ
Abu Saad Iman
جی واقعتاً اول الذکر کتاب میرے لیے بھی ایک یادگار کتاب ہے۔
Azkia Hashimi
جی ہاں یہ کتاب جدید علم الکلام میں قابل قدر اضافہ ہے
محمد عطاءالرحمن
Write a reply...
Anees Khan
انسانیت موت کے دروازے پر ۔۔۔دینیات۔۔۔ انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر
طاہر اسلام عسکری
تذکرہ از ابو الکلام آزاد اور تحریک آزادیِ فکر از مولانا اسماعیل سلفی رحمھما اللہ
LikeReply19 hrs
Abdul Mateen Islahi khutbat ...... social scoences zahid mughal
Powered by Blogger.